Aug 2, 2019 | 0 comments

بے حجاب

Written by Zujajah

اسے اپنے جسم سے گھن آنے لگی تھی۔ اسکا ضمیر چیخ چیخ کہ کہہ رہا تھا کہ تم اس راستے کی مسافر نہیں ہو ۔ تمھاری منزل تو کوئی اور ہے۔ وہ بار بار اسی کو سوچ رہی تھی اور اسکو اپنا وجود، اپنی روح اور اپنی حیا دیمک زدہ ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ ساکت کھڑکی کے پاس زمیں پہ بیٹھی تھی۔ کسی سوچ کے تحت اپنی جگہ سے اٹھی اور سنگھار میز کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اسے اپنے ہونٹ زہر آلود لگ رہے تھے، اسے اپنے ہاتھ گندگی میں لت پت لگ رہے تھے، اسے اپنے چہرے پہ گناہوں کے نشان نظر آ رہے تھے گویا اسکا وجود، اسکا روم روم کیچڑ میں دھنستا جا رہا تھا اور وہ خود پہ ملامت کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔اپنی ذات کو پاک کرنا چاہتی تھی لیکن گناہ کا گمان اسے بار بار تھپڑ مار رہا تھا۔ اسے سکون چاہیئے تھا جو بے شک اللہ کے ذکر میں پوشیدہ ہے ۔

وہ واش روم کی طرف بڑھی اور واش بیسن کا نل کھول دیا پانی بہہ رہا تھا وہ کچھ دیر پانی کو دیکھتی رہی اور پھر اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا، شاید آج وہ اتنی گندی ہو چکی تھی کہ پانی بھی اسے صاف کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے پھر بھی خود کو سمجھاتے ہوئے وضو مکمل کیا اور باہر آگئی۔ جائے نماز بچھایا اور اس پر مردہ قدموں سے کھڑی ہو گئ ۔ ہاتھ اتنے بوجھل تھے کہ اس نے تکبیر کیلیئے بھی بمشکل اٹھائے اور قیام کیلیئے کھڑی ہو گئی۔

 اهْدِنَاالصِّرَاطَالْمُسْتَقِيمَ اور آنسو کسی سیلاب کی طرح بہنے لگے۔ درد آنکھوں سے گرم پانی کے چشمے کی طرح بہہ رہا تھا۔ وہ درباری بھیکاری آقا سے بات کرنا چاہتی تھی مگر رابطہ منقطہ تھا۔ آج اسکا قیام بے روح تھا اور سجود بے سکوں تھے۔ اسکا گناہ اسے بہت بڑا لگ رہا تھا۔

وہ ان دوسری لڑکیوں کی طرح کیوں نہیں ہے؟ سب کے بوائے فرینڈز ہیں اور وہ کس حد تک ان کےساتھ انولو ہیں یہ بھی سب جانتے ہیں۔ وہ حسن کے دلدادہ افراد کا بوسہ، اسیرِ زلفِ یار ہونے والوں کی گرم  جوشیاں، وہ محبت یا پھر حوس کی پھیلتی ہوئی سرخی اور بے باک نامحرم اور پھر دو بے حجاب جسم۔۔۔

 آخر وہ سب بے سکوں کیوں نہیں ہوتے؟ کیا انھیں گناہ کا رائی برابر بھی احساس نہیں ہوتا؟ اس نے توابھی اتنا کچھ کیا بھی نہیں تھا۔ اس کے سر سے ردا اتری تھی، شانوں سے پھسلتی ہوئی زمیں پہ جا گری تھی۔ پھر اگلے ہی پل وہ اپنے چہرے پہ اس کے لمس کی حدت کو محسوس کرنے لگی۔ وہ اسکے بال اس کے چہرے سے پیچھے ہٹا رہا تھا۔ اور تب اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو پاک نہیں تھی مگر پھر بھی اس نے ناجانے کیوں اسے خود سے دور نہیں کیا۔ شاید شیطان غالب تھا۔

اس کا ہاتھ اس کے چہرے سے اس کی گردن اور پھر شانوں تک کا سفر طہ کر چکا تھا۔ اسکے رخسار پہ وہ ایک مہر لگا چکا تھا اور ناجانے کتنی اسی پیشانی اور لبوں پہ اور اسکی گردن پہ بھی اس کے بوسے کے نشان تھے جنہیں صرف وہ دیکھ سکتی تھی۔ وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی اور کا چہرہ کسی تازہ خون کے لوتھڑے کی طرح سرخ تھا۔ اسکا ہاتھ اب اسکے شانوں سے بھی سفر کرنے لگا تھا۔ اسے اپنا ریشمی لباس سرکتا ہوا محسوس ہونے لگا جسے اس نے سنبھالنے کی کوشش نہیں کی۔ اس سے پہلے کہ وہ لباس اس کی جوانی کا شباب بہاتا ہوا زمیں پہ جا گرتا، کسی کے قدموں کے آواز نے دونوں کو چونکا دیا اور وہ  فوراً سنبھل گئے۔  ان قدموں نے اس کی عزت کو اپنی چاپ میں سمو لیا

——————————————————————————————————————–

کمرے میں اندھیرا تھا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا اور وہ اندھیرے کو ہی گھور رہی تھی۔ چشمِ مضطرب کو خواب کی آغوش چاہیئے تھی مگر وہ مسلسل کروٹیں بدل رہی تھی اور نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔  وہ آنکھیں بند کرتی تو اسے اپنا سرکتا لباس نظر آتا۔ اسے یہ ملامت پہلے کیوں نہیں ہوئی تھی؟ اور اب وہ بےسکون کیوں ہے؟ شاید ضمیر اب جاگا ہے۔ اور تب وہ سراب میں بہتی جا رہی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بہت شرمندگی تھی۔ کتنی ہی بار اس کے ہاتھ دعا کیلیئے اٹھے، معافی کیلیئے جڑے مگر آج اس کی  دعاؤں میں قرار نہیں تھا۔ آنسو بہتے چلے جا رہے تھے۔ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور سائیڈ لیمپ آن کیا۔ اپنا جی بہلانے کیلیئے اس نے ٹی.وی آن کیا۔ کسی بیت بازی کے مقابلے کا اختتام چل رہا تھا۔ وہ بیڈ پہ لیٹ گئی اور مقابلہ دیکھنے لگی۔  “ جب تک جج صاحبان فیصلہ کرنے میں مصروف ہیں آپ میں سے کوئی ایک اپنا پسندیدہ شعر سنا دے”۔  میزبان نے کہا۔

راتوں کو اُٹھ کر خیالوں سے ہو کر یادوں میں کھو کر
تمھیں کیا خبر ہے اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
ویرانیوں میں جا کر دکھڑے سنا کر
دامن پھیلا کر آنسو بہا کر
تمھیں کیا خبر ہے اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
تم تو کہو گے صنم مانگتا ہوں غنم مانگتا ہوں
زر مانگتا ہوں میں گھر مانگتا ہوں
زمیں مانگتا ہوں نگیں مانگتا ہوں
تم تو کہو گے ہمیں خبر ہے
کہ راتوں کو اُٹھ کر خیالوں سے ہو کر
یادوں میں کھو کر آنکھیں بگھو کر
کسی دلربا کی کسی دلنشیں کی وفا مانگتا ہوں
یہ بھی غلط ہے وہ بھی غلط ہے
جو بھی ہے سوچا سو بھی غلط ہے
نہ صنم مانگتا ہوں نہ زر مانگتا ہوں
نہ دلربا کی نہ دلنشیں کی
نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر ہے میں اپنے خدا سے
آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی حیا مانگتا ہوں
!! حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ردا مانگتا ہوں

وہ شعر سنا رہا تھا۔۔۔ اور وہ معاف کر دیئے جانے کے خواب لے کر نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔

Related Articles

Related